اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > یا رسول اللہ! اللہ تعالی حق کو بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتل…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أم سلمة رضي الله عنها قالت: «جاءت أمُّ سُلَيمٍ امرأةُ أَبِي طَلحة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنَّ الله لا يَسْتَحيِي من الحَقِّ، فهل على المرأة من غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعم، إِذَا رَأَت المَاء».
ام سلیم انصاریہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے آئیں۔ چونکہ ان کے سوال کا تعلق شرم گاہوں سے تھا جن کے ذکر سے عموما حیاء محسوس کی جاتی ہے اس لئے انہوں نے اپنا سوال رکھنے سے پہلے تمہید باندھی تاکہ سننے والوں پر اس کا اثر کچھ کم ہو جائے۔
کہنے لگیں کہ اللہ عز و جل جو بذات خود حق ہیں، ایسی حق بات کے بیان سے نہیں رکتا جسے ذکر کرنے میں حیاء محسوس کی جاتی ہے جب کہ اس کے بیان میں کوئی فائدہ ہو۔ اس مقدمہ کو ذکر کرنے کے بعد جس سے ان کے سوال کی شدت کم ہو گئی، ام سلیم رضی اللہ عنہا اصل موضوع کی طرف آئیں اور پوچھنے لگیں: اگر عورت خواب میں دیکھے کہ وہ مجامعت کر رہی ہے تو کیا اس پر غسل کرنا واجب ہو جاتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں، اس پر غسل واجب ہو جاتا ہےجب کہ وہ شہوت سے نکلنے والے پانی (مادہ منویہ) کو دیکھ لے۔
موضوعات : غسل کرنا۔