کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ضرور! سن لو…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ضرور! سن لو…

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گ…

عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، قال: دخلت على عائشة فقلت: ألا تحدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: بلى، ثَقُلَ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أصلى الناس؟» قلنا: لا، هم ينتظرونك، قال: «ضعوا لي ماء في الْمِخْضَبِ ». قالت: ففعلنا، فاغتسل، فذهب لِيَنُوءَ فأغمي عليه، ثم أفاق، فقال صلى الله عليه وسلم : «أصلى الناس؟» قلنا: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، قال: «ضعوا لي ماء في الْمِخْضَبِ » قالت: فقعد فاغتسل، ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق، فقال: «أصلى الناس؟» قلنا: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، فقال: «ضعوا لي ماء في الْمِخْضَبِ »، فقعد، فاغتسل، ثم ذهب لِيَنُوءَ فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: «أصلى الناس؟» فقلنا: لا، هم ينتظرونك يا رسول الله، والناس عُكُوفٌ في المسجد، ينتظرون النبي عليه السلام لصلاة العشاء الآخرة، فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر بأن يصلي بالناس، فأتاه الرسول فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرك أن تصلي بالناس، فقال أبو بكر - وكان رجلا رقيقا -: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر: أنت أحق بذلك، فصلى أبو بكر تلك الأيام، ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم وجد من نفسه خِفَّةً ، فخرج بين رجلين أحدهما العباس لصلاة الظهر وأبو بكر يصلي بالناس، فلما رآه أبو بكر ذهب ليتأخر، فَأَوْمَأَ إليه النبي صلى الله عليه وسلم بأن لا يتأخر، قال: أجلساني إلى جنبه، فأجلساه إلى جنب أبي بكر، قال: فجعل أبو بكر يصلي وهو يأتم بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم ، والناس بصلاة أبي بكر، والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد، قال عبيد الله: فدخلت على عبد الله بن عباس فقلت له: ألا أعرض عليك ما حدثتني عائشة عن مرض النبي صلى الله عليه وسلم ، قال: هات، فعرضت عليه حديثها، فما أنكر منه شيئا غير أنه قال: أسمت لك الرجل الذي كان مع العباس قلت: لا، قال: هو علي بن أبي طالب رضي الله عنه .

حدیث کی وضاحت: کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گ…

حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ کی اس بیماری کے بعض احوال کا بیان ہوا ہے، جس میں آپ کی وفات ہوئی۔ جب آپ کی بیماری نے شدت اختیارکر لی، تو آپ نے اپنے پاس موجود شخص سے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ کہا گیا: نہیں۔ تو آپ نے پانی منگوایا اورغسل کیا، لیکن آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ پھر جب افاقہ ہوا، تو آپ نے یہی سوال دہرایا اور دوبارہ غسل فرمایا، لیکن پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا، مگر انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا؛ کیوں کہ وہ اس کے زیادہ حق دار تھے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا، توعباس اورعلی رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوکر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے انھیں اپنی جگہ پر رہنے کا حکم دیا اور ان کے بغل میں بیٹھ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی ﷺ کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کررہے تھے۔

موضوعات : غسل کی سنتیں اور آداب · آپ ﷺ کی وفات

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا إله إلا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود