حق ’وِلاء‘ اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > حق ’وِلاء‘ اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: حق ’وِلاء‘ اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔

عن عائشة بنت أبي بكر رضي الله عنهما قالت: كانت في بريرة ثلاث سنن:
خُيِّرَتْ على زوجها حين عتقت.
وأُهْدِيَ لها لحم، فدخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم والبُرْمَةُ على النار، فدعا بطعام، فَأُتِيَ بخبز وأُدْمٌ من أدم البيت، فقال: ألم أَرَ البرمة على النار فيها لحم؟ قالوا: بلى، يا رسول الله، ذلك لحم تُصدِّق به على بريرة، فكرهنا أن نطعمك منه، فقال: هو عليها صدقة، وهو منها لنا هدية.
وقال النبي صلى الله عليه وسلم فيها: إنما الوَلاء لمن أعتق».

حدیث کی وضاحت: حق ’وِلاء‘ اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی آزاد کردہ باندی کی برکت بیان کر رہی ہیں اور اس با برکت سودے کا ذکر کررہی جس نے اسے ان کے قریب کر دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت پر مشتمل اپنے احکامات میں سے تین کو ان کے بارے میں جاری فرمایا جو رہتے زمانے تک شرعی احکامات بن گئے۔

اول: وہ تب آزاد ہوئیں جب وہ اپنے غلام شوہر مغیث کے نکاح میں تھیں۔ انہیں اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے پہلے نکاح پر ان کے ساتھ رہیں یا پھر انہیں چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو الگ کر لیں۔ کیونکہ وہ مرتبے کے اعتبار سے اب ان کے ہم پلہ نہیں رہے تھے کیونکہ یہ آزاد تھیں اور وہ غلام اور اس معاملے میں برابری کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا۔ ان کا یہ عمل دوسروں کے لئے سنت بن گیا۔

دوم: ان کو بطور صدقہ گوشت دیا گیا جب کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں جنہوں نے انہیں آزاد کیا تھا۔ نبی ﷺ گھر آئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو گھر والوں نے آپ ﷺ کو روٹی اور گھر کا وہ سالن دے دیا جو وہ عموما استعمال کیا کرتے تھے اور بریرہ رضی اللہ عنہا کو جو صدقے کا گوشت آیا تھا اس میں سے آپ ﷺ کو کچھ بھی نہ دیا کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر چڑھی ہنڈیا میں گوشت نہیں تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ: جی بالکل ہے۔ لیکن وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بطور صدقہ آیا ہے اس وجہ سے ہم نے اسے آپ کو کھلانا مناسب نہیں سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ان کے طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہو گا۔

سوم: بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکان نے جب انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیچنا چاہا تو انہوں نے شرط لگائی کہ آزاد کرنے پر حق ولاء انہی کے پاس رہے گا کیونکہ جب باندی ان کی طرف منسوب ہو گی تو یہ ان کے لئے فخر کا باعث ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس سے انہیں کوئی مادی فائدہ بھی حاصل ہو جیسے وراثت اور نصرت وغیرہ۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔ یہ بیچنے والے یا کسی اور کو نہیں ملتا۔ ولاء در اصل مالک آقا اور مملوک غلام کے مابین اس کے آزاد ہو جانے کے بعد قائم رہنے والا ایک تعلق ہے۔ اگر غلام کا کوئی وارث نہ ہو یا پھر ذوی الفروض کے میراث میں سے اپنا حصہ لے چکنے کے بعد کچھ باقی بچ جائے تو وہ آقا کو بطور میراث مل جاتا ہے۔

موضوعات : غلامی وآزادی

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
حسبنا الله ونعم الوكيل اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود