آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:”اے اللہ!،اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے غیب و حا…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:”اے اللہ!،اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے غیب و حا…

حدیث کے راوی: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:”اے اللہ!،اے آسمانوں اور…

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قال: يا رسول الله مُرني بكلمات أقُولُهُنَّ إذا أصبَحتُ وإذا أمسَيتُ، قال: «قل: اللهم فاطِرَ السماوات والأرض عالم الغيبِ والشهادة، ربَّ كُلِّ شَيءٍ ومَلِيكَه، أَشْهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شرِّ نفسي وشرِّ الشيطان وشِرْكِهِ وأن أقترف على نفسي سوءًا أو أجرُّه إلى مسلم» قال: «قلها إذا أصبحت، وإذا أمسيت، وإذا أخذْتَ مَضْجَعَك».

حدیث کی وضاحت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:”اے اللہ!،اے آسمانوں اور…

یہ ذکر ان اذکار میں سے ہے جنہیں صبح و شام کیا جاتا ہے اور جس کی تعلیم نبی ﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دی جب انھوں نے عرض کیا کہ: "مجھے سکھائیں"۔ چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں صبح و شام کیا جانے والا ذکر اور دعا سکھائی اور ان سے کہا کہ وہ یوں کہا کریں: " اللهم فاطرَ السماواتِ والأرضِ"۔ یعنی اے اللہ، اے آسمانوں اور زمین دونوں کے پیدا کرنے والے!۔ "فاطر" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انھیں بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا اور بنا کسی پیشگی مثال کے انھیں عدم سے وجود بخشا۔

"عالم الغيب و الشهادة"۔ یعنی ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو مخلوق کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور ان کو بھی جانتا ہے جنھیں وہ دیکھتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ حال، مستقبل اور ماضی سب سے واقف ہے۔

"رب كل شئ و مليكه"۔ یعنی اے ہر چیز کے رب اور ہر چیز کے مالک!۔ اللہ تعالی ہر چیز کے رب اور مالک ہیں۔

"أشهد أن لا إله إلا أنت"۔ میں اپنی زبان اور دل سے اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اللہ کے علاوہ جس کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے اور عبودیت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ عبودیت کے حق دار صرف اور صرف اللہ عز و جل ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "أعوذ بك من شر نفسي"۔ کیوں کہ نفس کی شر انگیزیاں ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء إلا ما رحم ربي‘‘ (یوسف: 53)۔ ترجمہ: "اور میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا، بے شک نفس تو برائی سکھاتا ہے اِلاّ یہ کہ جس پر میرا رب مہربانی کرے"۔ جب اللہ آپ کو آپ کے نفس کی شر انگیزیوں سے نہ بچائے تو وہ آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور برائی پر اکساتا ہے۔ لیکن اگر اللہ آپ کو اس کے شر سے محفوظ کر دے تو آپ کو ہر نیکی کی توفیق دیتا ہے۔

نبی ﷺ نے اپنی دعا کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ فرمایا: " ومن شر الشيطان وشِرْكه"۔ ایک اور روایت میں " و شَرَكه" کے الفاظ ہیں۔ یعنی آپ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ آپ کو شیطان کے شر اور اس شرک سے پناہ دے جس پر وہ اکساتا ہے یا اس کے جال سے بچائے۔ "الشَرَک" اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے مچھلیاں اور پرندے وغیرہ شکار کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ شہوات و شبہات وغیرہ شیطان کے جال ہیں جن سے وہ انسانوں کا شکار کرتا ہے۔

" وأن اَقترفُ على نفسي سوءا"۔ یعنی خود اپنے آپ کے ساتھ کچھ برا کروں یا پھر کسی مسلمان کو برائی پہنچاؤں۔ نبی ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس ذکر کو صبح و شام اور اس وقت کیا کریں جب اپنے بستر پر لیٹ جائیں۔

موضوعات : سونے اور بیدار ہونے کے آداب

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود