”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے“۔
اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے“۔
حدیث کے راوی: رواه البخاري
صحيح
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: ”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار…
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ».
حدیث کی وضاحت: ”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار…
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ دوزخ کو ایسی چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، جو نفس کو للچاتی ہیں، جیسے حرام کاموں کا ارتکاب اور واجبات میں کوتاہی۔ ایسے میں جس نے اپنے نفس کو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا دیا، وہ جہنم کا حق دار بن گیا۔ جب کہ جنت کو ایسی چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، جو نفس کو ناپسند ہيں۔ جیسے اللہ کے احکام کو پابندی کے ساتھ ادا کرنا، حرام کاموں سے اجتناب کرنا اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو برداشت کرنا وغیرہ۔ جب انسان ان معاملوں میں اپنے نفس سے لڑتا ہے، توجنت میں داخل ہونے کے اسباب کو پالیتا ہے۔
اسباق: ”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار…
- خواہشات میں پڑنے کا ایک سبب یہ ہے کہ شیطان غلط اور بری چیز کو خوب صورت بناکر پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کا نفس اسے اچھا سمجھ کر اس کی جانب مائل ہو جاتا ہے۔
- حرام خواہشات سے دور رہنے کا حکم، کیوں خواہشات کی پیروی انسان کو جہنم کی جانب لے جاتی ہے۔ جب کہ ناپسندیدہ چیزوں کو برداشت کرنے کا حکم۔ کیوں کہ ناپسندیدہ چیزوں کو برداشت کرنا جنت کی جانب لے جاتا ہے۔
- اپنے نفس سے لڑنے، خوب عبادت کرنے، ناپسندیدہ چیزوں کو برداشت کرنے اور ان پریشانیوں کا سامنا کرنے کی فضیلت، جو اطاعت کے کاموں کو کرتے وقت سامنے آتی ہیں۔
موضوعات :
جنت و دوزخ کا بیان
بسم الله الرحمن الرحيم
منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
الحمد لله
اللہ کی حمد