اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے طے کیا وہ ( ہر ایک …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنهما ، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غَزَاةٍ، فقال: «إن بالمدينة لَرِجَالًا ما سِرْتُم مَسِيرًا، ولا قَطَعْتُم وَادِيًا، إلا كانوا مَعَكُم حَبَسَهم المرضُ».
وفي رواية: «إلا شَرَكُوكُم في الأَجْرِ».
وعن أنس - رضي الله عنه - قال: رجعنا من غزوة تبوك مع النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «إن أقواما خلفنا بالمدينة ما سلكنا شِعْبَا، ولا واديا، إلا وهم معنا؛ حبسهم العذر».
نبی ﷺ ایسے لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو کسی مرض یا اس طرح کی کسی اور مجبوری کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ میں شریک نہ ہو سکے۔ آپ ﷺ بتا رہے ہیں کہ جہاد کرنے والے جتنا بھی چلے ہیں اور انہوں نے جس وادی اور گھاٹی کو بھی عبور کیا ہے ان کے اس عمل کا ثواب ان لوگوں کے لیے بھی لکھا گیا ہے۔
موضوعات : دل کے اعمال