”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی…
اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی…
حدیث کے راوی: متفق عليه
صحيح
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا،…
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: «لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ».
حدیث کی وضاحت: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا،…
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کسی شخص کو ایمان کامل کی دولت اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی دین اور دنیا کی وہی چیزیں پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہو اور اس کے لیے انھیں چيزوں کو ناپسند نہ کرے، جنھیں اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ اگر اپنے بھائی کے اندر دین کی کوئی کمی دیکھے، تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اچھائی دیکھے تو اسے اور جلا دے اور اس میں مدد کرے۔ دین اور دنیا سے متعلق تمام امور میں اس کی خیرخواہی کرے۔
اسباق: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا،…
- انسان پر یہ واجب ہے کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ کیوں کہ جو اپنے لیے پسند ہو اسے اپنے بھائی کے لیے پسند نہ کرنے والے کے ایمان کی نفی یہی بتاتی ہے۔
- دینی اخوت کا درجہ نسبی اخوت سے اوپر ہے۔ لہذا اس کا حق بھی زیادہ واجب ہے۔
- ایسے تمام اقوال و افعال حرام ہیں جو اس اخوت کے منافی ہوں جیسے دھوکہ، غیبت، حسد اور مسلمان کی جان، مال یا عزت و آبرو پر حملہ وغیرہ۔
- مہمیز کا کام کرنے والے الفاظ کا استعمال۔ کیوں کہ آپ نے "اپنے بھائی" کا لفظ استعمال کیا ہے۔
- کرمانی رحمہ اللہ کہتے ہيں: ایمان کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہ ناپسند کرے، جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ لیکن اس کا ذکر آپ نے نہیں کیا۔ کیوں کہ کسی چيز سے محبت سے اس کی ضد سے نفرت لازم آتی ہے۔ لہذا اسے الگ سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
موضوعات :
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق
بسم الله الرحمن الرحيم
منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
حسبنا الله ونعم الوكيل
اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے