اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ دریافت کیا گیا کہ بھلا کوئی آدمی اپنے ما…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من الكبائر شَتْمُ الرجل والديه» قيل: وهل يسبّ الرجل والديه؟ قال: «نعم، يسبّ أبا الرجل فيسبّ أباه، ويسبّ أمّه، فيسبّ أمّه».
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ماں باپ کا حق بڑا عظیم ہے اور ان کی اذیت و سب و شتم کا باعث بننا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ پھر جب ان کے سب و شتم کے سبب بننے کا یہ حال ہے، تو بلا واسطہ ان کی دشنام طرازی اور لعنت و ملامت کتنا بڑا گناہ ہے، اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔
جب اس بات کی خبر دی گئی کہ والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، تو وہاں موجود لوگوں نے تعجب کا اظہار کیا؛ کیوں کہ آدمی کا اپنے والدین کو بالواسطہ گالی دینا عقل سے بعد تر بات ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے بتایا کہ یہ کبھی کبھی ان کی دشنام طرازی کا سبب بننے کی وجہ سے واقع ہوتا ہے کہ جب آدمی کسی کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے، تو بدلے میں وہ بھی اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔
موضوعات : اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق · گفتگو اور خاموشی کے آداب