اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہو کر نہ پیے اور اگر بھول کر پی بیٹھے، تو قے کر دے
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنسٍ رضي الله عنه عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم : أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرجلُ قَائِمًا.
قال قَتَادَةُ: فقلنا لأنسٍ: فالأَكْلُ؟ قال: ذلك أَشَرُّ - أو أَخْبَثُ.
وفي رواية: أَنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم زَجَرَ عن الشُّرْبِ قائمًا.
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ منكم قَائِمًا، فمن نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ».
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کھڑے ہوکرکھانے کا کیا حکم ہے؟ کیا کھڑے ہو کر کھانا بھی پینے کی طرح ممنوع ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ تو بطریق اولی ممنوع ہو گا؛ کیوں کہ کھڑے ہو کر کھانا تو زیادہ برا اور گندا ہے۔
”نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا“۔
نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی کھڑے ہوکر پیے۔ جو شخص بھول کر ایسا کر لے، تو مستحب یہ ہے کہ وہ اپنے پیٹ میں جو کچھ ہو، اسے نکال دے۔ تاہم ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا؛ کیوں کہ کھڑے ہو کر پینا حرام نہیں بلکہ مکروہ ہے۔
موضوعات : کھانے پینے کے آداب