اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے
صحيحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن معاوية رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ، وَاللهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے اپنے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ایک بانٹنے والے کی ہے۔ آپ اللہ کا دیا ہوا مال اور علم وغیرہ لوگوں کے بیچ بانٹنے کا کام کرتے ہيں۔ جب کہ اصل دینے والا اللہ ہے۔ اس کے سوا دوسرے لوگ اسباب ہیں، جو اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کا کچھ بھلا نہیں کر سکتے۔ تیسری بات آپ نے یہ بتائی کہ یہ امت قیامت کے دن تک اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور اس کی مخالفت کرنے والے اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔
موضوعات : علم کی فضیلت