اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا۔ آپ ﷺ کے دائیں جانب ا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن سهل بن سعد رضي الله عنه : أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بشرابٍ، فَشَرِبَ منهُ وعن يميِنِه غُلامٌ، وعن يسارِه الأشياخُ، فقالَ للغُلامِ: "أَتَأذَنُ لِي أنْ أُعْطِيَ هؤلاء؟"، فقالَ الغلامُ: لا واللهِ يا رسولَ اللهِ، لا أُوثِرُ بنَصِيبي منك أحداً. فَتَلَّهُ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم في يدِه.
حدیث میں نبی ﷺ نے لڑکے سے اس بات کی اجازت لینا چاہی کہ وہ مشروب کو اس سے پہلے بڑے لوگوں کو دے دیں۔ آپ ﷺ ایسا بڑی عمر کے لوگوں کا دل رکھنے، ان سے اظہارِ محبت اور ان کی بزرگی کے ایثار میں کیا کیونکہ از روئے سنت یہ ممنوع نہیں تھا۔ اس میں اس سنت کا بیان ہے کہ دائیں طرف والا زیادہ حق دارہوتا ہے اور کسی اور کو اس کی اجازت کے بغیر نہیں دیا جا سکتا تاہم اس سے اجازت مانگنے میں کوئی حرج نہیں اور اس کے لیے بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اجازت دے ہی دے، بلکہ اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ اگر اجازت دینے سے کوئی فضیلت یا دینی مصلحت ہاتھ سے نکل رہی ہو تو وہ اجازت نہ دے۔ یہ لڑکے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔
موضوعات : کھانے پینے کے آداب