جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے…

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ أخاه فَلْيَجْتَنِب الوجْهَ».

حدیث کی وضاحت: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے…

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو تادیب وتعزیر کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ میں یا لڑائی وغیرہ میں کوئی کسی شخص کو مارے، تو وہ اس کے چہرے پر ہر حال میں دور رہے۔ چاہے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ بنو آدم کا چہرہ کرامت و بزرگی والا اور سب سے اچھا عضو ہے۔ چہرہ وہ جگہ ہے، جس کے ذریعے کسی سے سامنا ہوتا ہے اور اس پر مارنے سےیا تو اس کا کوئی حصہ تلف ہوگا یا اس کے کسی حصے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس لیے اس سے بچنا واجب اور چہرے پر مارنا حرام ہے؛ خواہ حق کے طور پر ہو یا ظلم کے طور پر ہو۔

موضوعات : اختلاف رائے کے آداب · اسلام میں انسان کے حقوق

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود