جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الل…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے، تو ”سبحان الل…

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب…

عن جابر رضي الله عنه قَالَ: كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا، وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا.
عن ابن عمر رضي الله عنهما قالَ: كانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم وجيُوشُهُ إِذَا عَلَوا الثَّنَايَا كَبَّرُوا، وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا.

حدیث کی وضاحت: جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو ”الله اكبر“ کہتے اور جب…

اونچی جگہ چڑھتے ہوئے تکبیر کہنے کی مناسبت یہ ہے کہ بلندی اور اونچائی دلوں کو محبوب ہوتی ہے، اس لیے کہ اس میں بڑائی محسوس ہوتی ہے۔ چوں کہ انسان اپنے کو بڑا محسوس کرتا ہے، اس وجہ سے ”اللہ اکبر“ کہے یعنی اپنی نسبت چھوٹے ہونے کی طرف کرے۔ جہاں تک اللہ کی کبریا کی بات ہے تو شریعت نے یہ حکم دیاہے کہ جو شخص بلندی کی طرف چڑھے، وہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کو یاد کرے اور دل میں رکھے کہ وہ ہر چیز سے بڑا ہے، پس اس کے شکر کے طور پر تکبیر کہے، تاکہ اس کے فضل میں اضافہ ہو۔ اور اُترتے وقت تسبیح کہنے کی مناسبت یہ ہے کہ نیچی جگہ تنگی کا باعث ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ شریعت نے اس میں تسبیح کا حکم دیا؛ کیوںکہ تسبیح فراخی کا سبب ہے۔ جیسا کہ یونس علیہ السلام کے قصے میں ہے کہ انھوں نے تاریکیوں میں تسبیح کہی، تو انھیں مصیبت سے نجات مل گئی۔ اسی طرح کسی جگہ سے اترنا بھی ایک طرح سے ذلت ہے، اس لیے ”سبحان اللہ“ کہے یعنی اللہ تعالیٰ اسے ذلت اور پستی سے بچاۓ؛ کیوں کہ وہ پاک ذات ہر چیز کے اوپر ہے۔

اسی طرح جہاز کے اوپر چڑھتے وقت تکبیر کہنی چاہیے اور اس کے ہوائی اڈے پراُترتے وقت تسبیح کہنی چاہیے، اس لیے کہ ہوا میں چڑھنے اور اُترنے یا زمین پر چڑھنے اور اُترنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔

موضوعات : سفر کے آداب اور احکام · پیش آمدہ مصائب کے اذکار

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود