جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائ…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائ…

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، ت…

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ سُئِلَ عن عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يوم القيامةِ بِلِجَامٍ مِنْ نارٍ».

حدیث کی وضاحت: جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، ت…

اس حدیث میں علم کو چھپانے پر سخت ترین تنبیہ وارد ہوئی ہے۔ جس شخص سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا گیا اور دریافت کنندہ کو اس علمی مسئلہ سے واقفیت حاصل کرنے کی دینی ضرورت ہو، تو مسئول پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کی وضاحت کرے، لیکن اگر اس نے جواب نہ کر یا نہ لکھ کر اس مسئلے کی وضاحت نہہیں کی، تو جیسے کو تیسا کے مطابق، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈال دے گا۔ جس طرح اس نے جواب نہ دیتے ہوئے اپنےمنہ پر لگام لگا رکھی تھی۔ یقینا بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملے گا۔ اس حدیث میں وارد وعید کے مستحق وہ لوگ ہوں گے، جو اس بات سے واقف ہو ں کہ سائل اپنے سوال سے رشد و ہدایت کا طلب گار ہے، لیکن جب مسئول کو پتہ چل جائے کہ سائل کا مقصد اس کا امتحان ہے، اس کا مقصد علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنا نہیں ہے، تو مسئول کو اختیار ہےکہ چاہے تو اس کے سوال کا جواب دے یا نہ دے۔ ایسا شخص اس حدیث میں وارد وعید کا سزاوار نہ ہو گا۔

موضوعات : عالم اور متعلم کے آداب

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود