اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: خَرَجْتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين إلى قباء إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على باب عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ إزاره، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ» فقال عتبان: يا رسول الله، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عن امرأته ولم يُمْنِ، ماذا عليه؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إِنَّمَا المَاءُ مِنَ الماءِ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ غسل کا تعلق انزال کے ساتھ ہے اور پہلے پانی سے مراد معروف پانی ہے جبکہ دوسرے پانی سے مراد منی ہے۔ اور حدیث بالحصر اس مفہوم پر دلالت کر رہی ہے کہ غسل صرف انزال کے ساتھ ہے ،شرمگاہ کا شرمگاہ سے ملنے پر غسل نہیں لیکن یہ حکم منسوخ ہے ۔جماع سے غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے انزال نہ بھی ہو جیسا کہ حدیث میں ہے ”إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ“ کہ جب شرمگاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
موضوعات : وہ اشیاء جن سے غسل واجب ہو جاتا ہے · نسخ