ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، (پھر فرمایا) تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جائو اور جو کلمات تم نے خو…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، (پھر فرمایا) تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جائو اور جو کلمات تم نے خو…

حدیث کے راوی: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، (پھر فرمایا) تم بلال کے سات…

عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه قال: لَمَّا أَمَرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصلاة طاف بي وأنا نائم رجل يحمل ناقوساً في يده، فقلت: يا عبد الله أَتَبِيعُ الناقوس؟ قال: وما تصنع به؟ فقلت: ندعو به إلى الصلاة، قال: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فقلت له: بلى، قال: فقال: تقول: الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن محمدا رسول الله، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح، حيَّ على الفلاح، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، قال: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بعيد، ثم قال: وتقول إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: الله أكبر الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قد قامتِ الصلاة، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، فلما أصبحت، أتيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأخبرته، بما رأيتُ فقال: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ، فإنه أَنْدَى صوتا منك» فقمتُ مع بلال، فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ، وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بنُ الخَطَّاب، وهو في بيته فخرج يَجُرُّ رِدَاءَهُ، ويقول: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لقد رأيتُ مثل ما رأى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «فَلِلَّهِ الحَمْدُ».

حدیث کی وضاحت: ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، (پھر فرمایا) تم بلال کے سات…

یہ حدیث شریف اذان کا قصہ بیان کرتی ہے، اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ نصاریٰ کی طرح ایک ناقوس اپنا لیا جائے تاکہ اس کی آواز پر لوگ نماز کے لئے اکٹھا ہو جایا کریں، پھر آپ نے ایسا نہیں کیا اس لئے کہ وہ ان کے شعار و خصائص میں سے تھا، تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابیٔ رسول نے خواب دیکھا کہ ایک شخص ناقوس بیچ رہا ہے، انہوں نے سوچا کہ اس سے خرید لیں تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لئے اکٹھا کریں، تو اس شخص نے ان سے کہا :کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ اور اس نے انھیں اذان کے جملے سکھلائے۔ صبح ہوئی تو عبداللہ بن زید رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے خواب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتلایا کہ یہ سچا خواب ہے اور انہیں حکم دیا کہ اذان کے وہ کلمات (جو خواب میں دیکھے ہیں) بلال کو پڑھا دیں تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز ان سے بہتر تھی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب اسے سنا تو وہ بھی تشریف لائے اور نبی ﷺ کو خبر دی کہ انہوں نے بھی اسی طرح خواب دیکھا ہے۔

موضوعات : اذان اور اقامت

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
حسبنا الله ونعم الوكيل اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود