اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی قصاص لیا جائے۔
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن حكيم بن حزام رضي الله عنه مرفوعًا: «لا تُقَامُ الحدود في المساجد، ولا يُسْتَقَادُ فيها».
جلیل القدرصحابی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسجد میں کسی قسم کی حدود کا نفاذ کیا جائے، یعنی ایسی حدود جن کا تعلق اللہ سے ہو یا انسانوں سے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے مسجد کی حرمت پامال ہوتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مسجد زخم یا نجاست سے ملوث ہو جائے اور اس لیے بھی کہ مساجد کو نماز اور ذکر کے لیے بنایا گیا ہے نہ کہ حدود کے نفاذ کے لیے۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد میں حدود قائم کرنا اور ان میں قصاص لینا حرام ہے کیونکہ نہی حقیقت میں تحریم کے لیے ہے جیسا کہ اصولِ فقہ میں ثابت ہے۔ اور یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں پایا جاتا جو اس کے حقیقی معنیٰ مراد لینے سے روکنے والا ہو۔
موضوعات : مساجد کے احکام