اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں ۔اور وہ ایام منیٰ تھے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها أن أبا بكر رضي الله عنه ، دخل عليها وعندها جاريتان في أيام منى تُدَفِّفَانِ، وتضربان، والنبي صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بثوبه، فانتهرهما أبو بكر، فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن وجهه، فقال: «دعهما يا أبا بكر؛ فإنها أيام عيد»، وتلك الأيام أيام منى، وقالت عائشة: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة وهم يلعبون في المسجد، فزجرهم عمر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «دعهم أَمْنًا بني أَرْفِدَة».
حدیث میں شریعت کی آسانی و کشادگی اور اس بات کا بیان ہے کہ شریعت کا منہج ان بے جا سختی اور غلو کرنے والوں کے برخلاف ہے جو سمجھتے ہیں کہ دین شدت اور سختی کا نام ہے۔ حدیث شریف میں ایامِ عید میں دف بجانے اور گانے کے جواز کا بیان ہے کیوں کہ کچھ بچیوں نے نبی ﷺ کے سامنے ایسا کیا اور جس نے انہیں ایسا کرنے سے منع کرنا چاہا اسے آپ ﷺ نے منع کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح نیزوں وغیرہ سے کھیلنے کا بھی یہی حکم ہے۔ اورحبشی لوگ تو فطری طور پرکھیل کود اور (خوشی سے) جھومنےکے دلدادہ ہوتے ہیں چنانچہ نبی ﷺ نے مسجد ہی میں انہیں اپنے اس شوق کو پورا کر لینے کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ نے یہ اجازت ایک اہم شرعی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے مرحمت فرمائی جس کی طرف حدیث کے بعض الفاظ میں اشارہ موجود ہے اور وہ مندرجہ ذیل حکمتیں ہیں:
1۔ وہ گروہ جو اسلام کی شدت اور سختی کے ڈر سے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے انہیں یہ باور کرانا کہ اسلام کشادگی اور وسعت پر مبنی دین ہے، خاص طور پر یہودیوں کو جو خود بھی اس سے گریزاں رہتے اور دوسروں کو بھی اس سے منع کرتے۔اس لیے حدیث کے بعض الفاظ میں آیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نےانہیں اس سے روکا تو آپ ﷺ نےفرمایا: "انہیں ایسا کرنے دو تا کہ یہودیوں کو معلوم ہو کہ ہمارے دین میں وسعت ہے اور میں کشادگی پر مبنی دینِ حنيف کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں"۔
2- ان كایہ کھیل کود عید کے دن تھا ۔اور عید کے ایام خوشی و مسرت کے ایام ہوتے ہیں جن میں مباحات میں توسع ہوتی ہے۔
3۔ یہ ایک مردانہ کھیل تھا جس میں خشونت، جوش اور اظہارِ شجاعت تھا۔
موضوعات : دورانیہ مناسبتیں · مساجد کے احکام