اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبی کریم ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے …
یہ حدیث اپنی تمام روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أنس رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر كانوا يفتتحون الصلاة بـ﴿الحمد لله رب العالمين﴾.
زاد مسلم: لا يذكرون: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ في أول قراءة ولا في آخرها.
وفي رواية لأحمد والنسائي وابن خزيمة: لا يجهرون بـ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾.
وفي أخرى لابن خزيمة: كانوا يُسرُّون.
اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صاحبین (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) نماز میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ جہری طور پر نہیں پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی تاکید ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کا حصہ نہیں ہے۔ ابن خزیمہ کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ سراً پڑھا کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بلوغ المرام میں کہتے ہیں: صحیح مسلم کی روایت کی نفی کو اسی معنی پر محمول کیا جائےگیا (یعنی بسم اللہ کو ذکر نہیں کیا کرتے تھے کا مطلب ہے جہراً بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے) بخلاف ان کے جو اس روایت کو معلول کہتے ہیں۔
مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا کہنا ہے کہ: صحیح یہ ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں کا حصہ نہیں بلکہ یہ سورۂ نمل کی مستقل آیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ اور اس کا سوائے سورہ براءت کے علاوه ہر سورت کے شروع میں پڑھنا مستحب ہے اور یہ بھی مسنون ہے کہ نماز میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کو سورۂ فاتحہ سے پہلے سری طور پر پڑھا جائے گا۔
موضوعات : نماز کا طریقہ