اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ ن…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم : كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم، أو دعا على قوم.
حدیث میں وہ مواقع بیان کیے گئے ہیں، جہاں آپ علیہ الصلاۃ السلام قنوت پڑھتے تھے۔ یعنی کسی کے لیے دعا یا بد دعا کرتے وقت۔ اس سے حادثات میں قنوت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ فرض نمازوں میں اس کے علاوہ کوئی قنوت وارد نہیں ہوا۔ یہ حادثات اور مصائب کے دنوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے دعا مانگتے وقت یا کفار کے لیے بددعا مانگتے وقت قنوت پڑھتے تھے۔ نیز یہ کسی خاص نماز کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ تمام نمازوں میں اسے پڑھنا چاہیے۔
موضوعات : نماز کا طریقہ