اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھے تو اسے چاہیے کہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا صلى أحدكم الركعتين قبل الصبح، فليضطجع على يمينه»، فقال له مروان بن الحكم: أما يجزئ أحدنا ممشاه إلى المسجد حتى يضطجع على يمينه، قال عبيد الله في حديثه: قال: لا، قال: فبلغ ذلك ابن عمر، فقال: أكثر أبو هريرة على نفسه، قال: فقيل لابن عمر: هل تنكر شيئا مما يقول؟ قال: «لا، ولكنه اجترأ وجبنا»، قال: فبلغ ذلك أبا هريرة، قال: «فما ذنبي إن كنت حفظت ونسوا».
حديث ميں اس بات کا بيان ہے کہ فجر کی دو سنتيں پڑھنے کے بعد فرض نماز کی اقامت تک دائيں کروٹ پر ليٹنا مسنون ہے۔
دائيں جانب کی تخصيص ميں حکمت يہ ہے کہ انسان گہری نيند نہ سوجائے، کيونکہ دل انسان کے بائيں طرف ہوتا ہے لہذا اس حالت ميں انسان کا دل لٹکا ہوا رہتا ہے اور قرار وسکون نہيں حاصل ہوتا ہے ، اور جب بائيں کروٹ پر ليٹتا ہے تو وہ مکمل راحت اور سکون ميں ہوتا ہے اسی لئے گہری نيند سوجاتا ہے۔
موضوعات : موکدہ سنتیں