ایک رات میں دو وتر نہیں۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ایک رات میں دو وتر نہیں۔

حدیث کے راوی: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: ایک رات میں دو وتر نہیں۔

عن قيس بن طلق، قال: زارنا طلْق بن علي في يوم من رمضان، وأَمْسى عندنا، وأفطر، ثم قام بنا الليلة، وأَوْتَرَ بنا، ثم انحدر إلى مسجده، فصلى بأصحابه، حتى إذا بقي الوتر قَدَّمَ رجلا، فقال: أَوْتِرْ بأصحابك، فإني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا وِتْرَانِ في ليلة».

حدیث کی وضاحت: ایک رات میں دو وتر نہیں۔

صحابی جلیل طلق بن علی رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اپنے فعل سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ انھوں نے ایک دفعہ رات کے ابتدائی جصے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وتر پڑھا، پھر اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن وتر نہیں پڑھایا، بلکہ وتر کے لیے کسی اور کو آگے کر دیا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا تھا؛ کیوں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آدمی ایک رات میں دو وترپڑھے۔

موضوعات : نمازیوں کی غلطیاں · قیام اللیل

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود