اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟" اس نے جواب دیا : جی، سنتا تو ہوں، تو آپ نے کہا : "(نماز کی ن…
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَجِبْ».
ایک نابینا شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جو میری مدد کرے اور پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے ہاتھ پکڑ کر مجھے مسجد لے آیا کرے۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ آپ اسے جماعت میں شامل نہ ہونے کی اجازت دے دیں۔ آپ نے اجازت دے بھی دی۔ لیکن جب وہ جانے لگا، تو اسے بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟ جب انھوں نے ہاں میں جواب دیا، تو فرمایا : نماز کی ندا لگانے والے کی ندا قبول کرو۔
موضوعات : باجماعت نماز کی فضیلت اور اس کے احکام