اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > حجۃ الوداع میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرایا گیا تھا اور میں اس وقت سات سال کا تھا۔
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن السَّائب بن يزيد رضي الله عنهما قال: «حُجَّ بي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، وأنا ابن سبع سنين».
سائب بن یزید رضی اللہ عنہما ایک کم سن صحابی تھے۔ ان کے گھر والوں نے نبی ﷺ کے زمانے میں انھیں لے کر حج کیا۔ اس طرح وہ حجۃ الوداع میں شریک ہو گئے۔ نبی ﷺ نے بچوں کو ساتھ لے کر حج کرنے پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ بچے کے لیے یہ ایک نفلی حج شمار ہوتا ہے اور بلوغت کے بعد اس پر دوبارہ اسلام کی رو سے فرض شدہ حج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حج کے دوران بچہ بھی ویسے ہی کرتا ہے، جیسے بڑا (بالغ) کرتا ہے۔ یعنی احرام باندھتا ہے، سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے، تلبیہ کہتا ہے اور اس طرح کے دیگر افعال سر انجام دیتا ہے۔ اگر بچہ ایسا نہ کر سکے تو اس کی طرف سے اس کا سربراہ مثلاً باپ یا ماں کرے۔
موضوعات : حج اور عمرہ کے احکام اور مسائل