اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے، صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جنگ کرنے والوں کے الگ الگ مقاصد کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایک بہادری دکھانے کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص حمیت کی خاطر جنگ کرتا ہے اور ایک شخص نام و نمود کی خاطر جنگ کرتا ہے، ان میں سے کس کی جنگ اللہ کے راستے میں ہے؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والا وہ ہے، جس نے اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جنگ کی۔
موضوعات : جہاد کے آداب