اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلا…
یہ حدیث اپنی دیگر اسانید اور شواہد کی بنیاد پر صحیح ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن علي بن الحسين: "أنه رأى رجلا يجيء إلى فُرْجَةٍ كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيدخل فيها فيدعو، فنهاه، وقال: ألا أحدثكم حديثا سمعته من أبي عن جدي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:« لا تتخذوا قبري عيدا، ولا بيوتكم قبورا، وصلوا علي، فإن تسليمكم يبلغني أين كنتم».
علی بن الحسین (رحمہ اللہ) بتا رہے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو نبی ﷺ کی قبرمبارک کے پاس کھڑے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے دیکھا اور یہ کہ انھوں نے اس حدیث نبوی ﷺ کی بنیاد پر اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا، جس میں آپ ﷺ کی قبر پر بار بار آنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں گھروں کو اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر سے تہی کرنے سے بھی منع فرمایا گیا اور ایسے گھروں کو قبروں سے تشبیہہ دی گئی اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان کی طرف سے کیا گیا سلام آپ ﷺ تک پہنچتا ہے، چاہے وہ جس جگہ پربھی ہو۔
موضوعات : مساجد کے احکام · توحید کے فضائل