اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اگر تو اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أم المؤمنين ميمونة بنت الحارث رضي الله عنها : أنها أعتقت وَليدَةً ولم تستأذن النبي صلى الله عليه وسلم فلما كان يَومُها الذي يَدورُ عليها فيه، قالت: أشَعَرْتَ يا رسول الله، أني أعتقت وليدتي؟ قال: «أو فعلت؟» قالت: نعم. قال: «أما إنك لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك».
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا چونکہ یہ جانتی تھیں کہ اللہ کے راستے میں ٖغلام آزاد کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس لیے انہوں نے اپنی ایک باندی کو آزاد کر دیا۔ لیکن اس کی خبر نبی ﷺ كو نہیں دی تھی یا آپ سے اس کو آزاد کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔ لہٰذا جب ان کی باری تھی، تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتلادیا۔ آپ نے پوچھا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ میمونہ رضى الله عنها نے آپ کی رائے لیے بنا جو کچھ کیا تھا اس پر آپ نے کوئی نکیر نہیں فرمائی، صرف اتنا فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامؤوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے زیادہ ثواب کا باعث ہوتا“۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ: تو نے اچھا کیا، لیکن اگر تو اسےبنی ہلال کے اپنے مامؤوں کو ہبہ کردیتی تو یہ زیادہ ثواب کا باعث ہوتا اور بہتر ہوتا، اس لئے کہ اس میں اپنے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی ثواب ہے۔
موضوعات : ہبہ اور عطیہ · غلامی وآزادی