اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ اب آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے۔ مجھے یہ (قدر کی) رات دکھ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي سعيد الخُدْري رضي الله عنه : «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يَعْتَكِفُ في العَشْرِ الأَوْسَطِ من رمضان. فاعتكف عامًا، حتى إذا كانت لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ -وهي اللَّيْلَةُ التي يخرج من صَبِيحَتِهَا من اعتكافه- قال: من اعتكف معي فَلْيَعْتَكِفِ العَشْرَ الأَوَاخِرَ فقد أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثم أُنْسِيتُهَا، وقد رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ من صَبِيحَتِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، والتمسوها في كل وِتْرٍ. فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تلك الليلة، وكان المسجد على عَرِيشٍ، فَوَكَفَ المسجد، فَأبْصَرَتْ عَيْنَايَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى جَبْهَتِهِ أَثَرُ المَاءِ وَالطِّين من صُبْحِ إحْدَى وَعشْرِيْنَ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ لیلۃ القدر کی تلاش میں رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺ نے اپنی عادت کے مطابق اعتکاف کیا، جب اکیسویں شب تھی، اس کی صبح آپ اعتکاف سے اٹھ جاتے تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ لیلۃ القدر آخری عشرے میں ہے۔ آپ نے صحابہ سے کہا جس نے درمیانی عشرے میں میرے ساتھ اعتکاف کیا وہ اپنا اعتکاف جاری رکھے اور آخری عشرے میں بھی اعتکاف بیٹھے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں یہ رات بتائی تھی پھر بھُلا دی گئی، تاہم اس سال آپ نے خواب میں اسے دیکھا اس رات کی کچھ علامتیں تھی۔ وہ علامت یہ تھی کہ صبح کی نماز میں آپ نے سجدہ پانی اور مٹی میں فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا خواب سچ کر دکھایا، اکیسویں شب کو بارش ہوئی اور آپ ﷺ کی مسجد چھپر کی بنی ہوئی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنے کے بنے ہوئے تھے اور چھت کھجور کے چھال کی تھی، بارش کے پانی سے مسجد ٹپکنے لگی، جس کی وجہ سے اکیسویں رمضان کی صبح آپ نے سجدہ پانی اور مٹی میں کیا۔
موضوعات : اعتکاف · رمضان کا آخری عشرہ