اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے رکھتے تھے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے رکھتے تھے۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے…

عن عبد الله بن حنين أن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضي الله عنهما اختلفا بِالْأَبْوَاءِ:
فقال ابن عباس: يغسل الْمُحْرِمُ رأسه.
وقال الْمِسْوَر: لا يغسل رأسه.
قال: فأرسلني ابن عباس إلى أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه فوَجَدْتُهُ يغتسل بين الْقَرْنَيْنِ، وهو يستر بثوب، فَسَلَّمْتُ عليه، فقال: من هذا؟ فقلت: أنا عبد الله بن حُنَيْنٍ، أرسلني إليك ابن عباس، يسألك: كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغسل رأسه وهو مُحرِمٌ؟ فوضع أبو أيوب يده على الثوب، فَطَأْطَأَهُ، حتى بَدَا لي رأسه، ثم قال لإنسان يَصُبُّ عليه الماء: اصْبُبْ، فَصَبَّ على رأسه، ثم حَرَّكَ رأسه بيديه، فأقبل بهما وَأَدْبَرَ. ثم قال: هكذا رأيته صلى الله عليه وسلم يغتسل».
وفي رواية: «فقال المسور لابن عباس: لَا أُمَارِيكَ أبدًا».

حدیث کی وضاحت: اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے…

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے مابین اس بات پر گفتگو چلی کہ آیا محرم شخص غسل کرتے ہوئے اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں جس بات میں اشکال تھا وہ یہ تھی کہ اگر اس نے اپنے سر کے بالوں کو حرکت دی تو ممکن ہے اس سے سر کے کچھ بال ٹوٹ جائیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن حنین ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ وہ اس وقت غسل کر رہے تھے۔ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف بھیجا ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے غسل فرمایا کرتے تھے۔؟ اس پر ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کپڑے کو کچھ نیچے کیا جو آپ کو اوٹ فراہم کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ کا سر ظاہر ہو گیا اور آپ نے اس شخص سے فرمایا جو آپ پر پانی ڈال رہا تھا کہ پانی ڈالو۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر ہلایا اور انہیں آگے اور پیچھے کی طرف لے گئے۔ اور پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب وہ فرستادہ شخص واپس آیا اور اس نے آکر دونوں کو بتایا کہ عبد اللہ بن عباس کی رائے درست تھی، -صحابہ حق ہی کے جویا رہتےتھے- تو اس پر مسور رضی اللہ عنہ رجوع کرتے ہوئے اور اپنے ساتھی کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اب تم سے کبھی اختلاف نہیں کروں گا۔

موضوعات : اجتہاد اور تقلید · حج اور عمرہ کے احکام اور مسائل

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود