اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > پانچ جانور ايسے ہیں جو موذی ہیں اور ان کو حرم میں بھی مار ڈالنا چاہیے: کوّا، چیل، بچھو ،چو…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «خمسٌ من الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلنَ في الحَرَمِ: الغرابُ، وَالحِدَأَةُ، وَالعَقْرَبُ، وَالفَأْرَةُ، وَالكَلْبُ العَقُورُ».
وفي رواية: « يقتل خَمْسٌ فَوَاسِق في الْحِلِّ وَالْحَرَمِ ».
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے پانچ قسم کے جانوروں کو مارنے کا حکم دیا، جو سب کے سب موذی ہیں؛ چاہے وہ حرم میں ہوں یا غیر حرم میں۔ پھر آپ ﷺ نے ان پانچوں کے نام بتائے کہ یہ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنےوالا کتا ہیں۔ یہ پانچ قسم کے جانور فسق کی صفت سے متصف ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے یہ باقی تمام جانوروں سے الگ ہیں؛ کیوں کہ یہ حملہ آور ہوتے ہیں اور موذی ہیں۔ آپ ﷺ نے چند کے نام گنوائے؛ کیوں کہ ان کی اذیت ناکی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ باقی تمام جانوروں میں جو بھی اذیت ناکی میں ان سے مشابہہ ہوں گے، ان کا حکم بھی یہی ہو گا، انھیں بھی ان کے موذی پن اور نقصان دہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ نہ حرم انھیں بچائے گا اور نہ احرام انھیں پناہ دے گا۔
موضوعات : مسجد حرام، مسجد نبوی اور بیت المقدس سے متعلق احکام · حج اور عمرہ کے احکام اور مسائل