اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راس…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم :«عُرِضَتْ عَلَيَّ أعمالُ أُمتي، حَسَنُهَا وسَيِّئُهَا فَوَجَدتُ في مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، ووَجَدتُ في مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُونُ في المَسْجِدِ لا تُدْفَنُ».
اللہ عز و جل نے امت کے اعمال کو نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے ان کے اچھے اعمال میں سے ایک اچھا عمل راہ گیروں کو تکلیف دینے والی راستے میں پڑی کسی بھی چیز کو دور کر دینا پایا اور ان کے برے اعمال میں سے ایک عمل یہ پایا کہ انسان مسجد میں تھوک دے اور پھر اسے (مٹی میں) دفن کر کے یا کسی اور طریقے سے زائل نہ کرے۔
موضوعات : مساجد کے احکام