اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، اور میرا ارادہ نماز کا نہیں بلکہ (میں صرف یہ بتانے کے لئے) نماز…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي قِلابَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيِّ الْبَصْرِيِّ قال: «جاءنا مالك بن الْحُوَيْرِث في مسجدنا هذا، فقال: إني لَأُصَلِّي بكم، وما أُرِيدُ الصلاة، أُصَلِّي كيف رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، فقلت لأبي قِلَابَةَ كيف كان يُصَلِّي؟ فقال: مثل صلاة شيخنا هذا، وكان يَجْلِسُ إذا رفع رأسه من السجود قبل أن يَنْهَضَ».
أراد بشيخهم: أبا بُرَيد، عمرو بن سلمة الجرمي.
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک صحابی مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تمہیں ایک نماز پڑھاؤں جس سے میرا مقصد تمہیں عملی طریقے سے نبی ﷺ کی نماز سکھانا ہے تاکہ عملی شکل میں دی گئی تعلیم تمہیں زیادہ سمجھ آئے اور بہتر طور پر ذہن نشین ہو جائے۔
راوی حدیث نے ابو قلابہ سے پوچھا کہ: مالک بن حویرث جنہوں نے آپ کو نبی ﷺ کی نماز سکھائی وہ کیسے نماز پڑھتے تھے؟
انہوں نے جواب دیا: وہ ایسے نماز پڑھتے تھے جیسے ہمارے یہ شیخ ابو یزید عمرو بن سلمہ جرمی نماز پڑھتے ہیں۔ وہ جب کھڑے ہونے کے لئے سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔
موضوعات : نماز کا طریقہ