اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جُندب بن عبد الله القَسْرِِي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ، ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے فجر کی نماز پڑھ لی، وہ اللہ کے تحفظ اور نگرانی میں ہوتا ہے۔ اللہ اس کا دفاع کرتا ہے اور اس کے لیے انتقام لیتا ہے۔
پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عہد کو توڑنے سے منع کیا، جس کی ایک شکل یہ ہے کہ فجر کی نماز چھوڑ دی جائے اور دوسری شکل یہ ہے کہ فجر کی نماز پڑھنے والے کو تکلیف پہنچائی جائے یا اس پر دست درازی کی جائے۔ کیوں کہ جس نے ایسا کیا، اس نے اس دیوار کو توڑا اور اس سخت وعید کا مستحق ہو گیا کہ اللہ اسے اپنے حق میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے طلب کرے گا اور جسے اللہ طلب کرے گا، اسے وہ پا ہی لے گا اور پھر اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔
موضوعات : نماز کی فضیلت