اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کى خوراکی روک لے
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن خَيْثَمَةَ، قال: كنا جلوسًا مع عبد الله بن عمرو، إذ جاءه قَهْرَمَانٌ له فَدَخَلَ، فقال: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قال: لا، قال: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ».
اس حديث میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک انسان پر جن ماتحت لوگوں کا نان و نفقہ واجب ہو، ان کے بارے میں حساس رہنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے خزانچی نے غلاموں کو ان کا نفقہ نہیں دیا ہے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بخل کی بنا پر ماتحت لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لاپرواہی سے کام لینا اور ان کے نفقے کو روکنا گناہ میں واقع ہونے کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔
موضوعات : نفقہ/ خرچ