اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے ( اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس م…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من قُتِلَ في عِمِّيّا، أو رِمِّيَاً يكون بينهم بحَجَرٍ، أو بِسَوْطٍ، فَعَقْلُهُ عَقْلُ خطإ، ومن قَتَلَ عَمْدَاً فَقَوَدُ يَدَيْهِ، فمن حَالَ بينه وبينه فعليه لعنة الله، والملائكة والناس أجمعين».
اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی باہمی دھکم پیل، یا کسی غیر مبینہ حالت کی وجہ سے، یا کسی اور خفیہ سبب جیسے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے مارا جائے اور اس کے قاتل کی نشاندہی نہ ہو سکے تو اس کو قتلِ خطا پر منحصر کیا جائے گا اور اس کی قتلِ خطا والی دیت مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اور جس کو عمداً (قاتل کی نشاندہی کے ساتھ) قتل کیا گیا ہو تو اس کے ہاتھوں کو سزا دی جائے گی۔ یعنی اس کو جان سے مار کر قصاص لیا جائے گا یا اس کے قتل کا فیصلہ اس کی جان کو قصاص بنایا جائے گا۔ ہاتھ کی تعبیر جان سے مجازی طور پر کی گئی ہے۔ یا پھر اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اس کے ہاتھ نے جو کام کیا ہے اس کی سزا ملے گی اور وہ قتل ہے بایں معنی قود (سزا) کی اضافت ید (ہاتھ) کی طرف مجازی طور پر کی گئی ہے۔ اور جو شخص قاتل اور سزا کے درمیان حائل ہو جب کہ مقتول کے ورثاء اس سے قصاص کے خواہش مند ہوں تو مانو اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اس کے اس قبیح جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ توبہ قبول کرتا ہےاور نہ ہی اس کا کوئی فرض اور نفل قبول کرتا ہے۔
موضوعات : دیات