جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا تو اسے قیامت …

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا تو اسے قیامت …

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ…

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول: «من قَذَفَ مَمْلُوكَهُ، وهو بَرِيءٌ مما قال جُلِد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال».

حدیث کی وضاحت: جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ…

جب آقا اپنے مملوک پر تہمت لگا دے تو دنیا میں اس پر حد نافذ نہیں کی جائے گی کیونکہ حدود کی سزائیں اس شخص کے لیے کفارہ ہوتی ہیں جس پر وہ نافذ کی جائیں اور اس شخص کو چونکہ آخرت میں عذاب ہوگا اوراس تہمت لگانے کی وجہ سے اس پر حد جاری کی جائے گی اس لیے دنیا میں اس پر حد نافذ نہیں کی جاتی۔ دنیا میں اس پر حد کے جاری نہ کیے جانے کے بارے میں علماء کا اجماع ہے۔ آقا پر حد اس لیے نہیں لگائی جاتی کیونکہ وہ عام طور پر اپنے مملوک پر تہمت صرف اسی وقت لگاتا ہے جب اسے یقین اور غالب گمان ہو جائے کیونکہ تہمت لگانے کی وجہ سے مملوک کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور اس میں اسی کا نقصان ہوتا ہے۔

اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تخصیص ہے کہ ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ ”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں اسّی دُرّے مارو“۔

موضوعات : قصاص · حدِ قذف

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود