اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول الله ﷺ نے پھلوں کو ” زہو “ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ دریافت کیا گیا کہ زہو کسے …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى تُزْهِي. قيل: وما تُزْهِي؟ قال: حتى تَحمَرَّ. قال: أرأيت إن مَنَعَ اللهُ الثمرة، بِمَ يستحِلُّ أحدُكُم مال أخيه؟».
پکنا شروع ہونے سے پہلے پھلوں پر بہت سی بیماریوں کے آنے کا اندیشہ ہوا کرتا تھا اور اس وقت ان کے بیچنے میں خریدار کا فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے فروخت کنندہ اور خریدار کو پھلوں کے 'زہو' سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پھلوں کی پختگی ظاہر ہوجائے۔ کھجور کے معاملے میں اس کی نشانی اس کا سرخ یا زرد ہوجانا ہے۔
نبی ﷺ نے اس قسم کی خرید و فروخت کی ممانعت کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان پھلوں پر کوئی آفت آ جائے یا ان کا کچھ حصہ بیماری کی زد میں آ جائے تو پھر تم یعنی فروخت کنندہ کے لیے یہ کیسے روا ہو گا کہ وہ اپنے خریدار بھائی کا مال لے لے؟۔ تم کسی ایسے بدل کے بغیر کیسے اس کا مال لے سکتے ہو جس سے اس کو کوئی فائدہ ہوا ہی نہیں؟۔
موضوعات : بیع کی حرام صورتیں