اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اب (نکاح) کیسے (باقی رہ سکتا ہے) جب کہ اس عورت کا دعوی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا …
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عقبة بن الحارث رضي الله عنه مرفوعاً: «أنه تزوج أم يحيى بنت أبي إهاب، فجاءت أَمَة سوداء، فقالت: قد أرضعتكما، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم . قال: فأعرض عني. قال: فَتَنَحَّيْتُ فذكرت ذلك له. قال: كيف وقد زعمت أن قد أرضعتكما؟!».
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ام یحی بنت ابی اھاب رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ ایک سیاہ رنگ کی باندی نے آکر انہیں بتایا کہ اس نے انہیں اور ان کی بیوی کو دودھ پلایا تھا اور یہ کہ وہ دونوں رضاعی بہن بھائی ہیں۔
انہوں نے نبی ﷺ کو اس باندی کی یہ بات بتائی اور کہنے لگے کہ وہ اپنے اس دعوی میں جھوٹی ہے۔
نبی ﷺ نے اس باندی کی گواہی کے ہونے کے باوجود عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کی رغبت کو ناپسند کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اب کیسے اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکتے ہو حالانکہ اس عورت کا یہ سب کچھ کہنا ہے اور جو کچھ وہ جانتی ہے اس کی وہ گواہی دے چکی ہے؟!۔
موضوعات : رضاعت