خوف كى نماز کا طریقہ جیسا كہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > خوف كى نماز کا طریقہ جیسا كہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: خوف كى نماز کا طریقہ جیسا كہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت…

عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنهما قال: «شَهِدْتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فَصَفَفْنَا صَفَّيْنِ خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم والعدو بيننا وبين القبلة، وكَبَّرَ النبي صلى الله عليه وسلم وكَبَّرنا جميعا، ثم ركع ورَكَعْنا جميعا، ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا، ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه، وقام الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ في نَحْرِ الْعَدُوِّ، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم السجود، وقام الصفّ الذي يليه انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بالسجود، وقاموا، تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثم ركع النبي صلى الله عليه وسلم وركعنا جميعا، ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا، ثم انحدر بالسجود، والصفّ الذي يليه -الذي كان مُؤَخَّرا في الركعة الأولى- فقام الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم السجود والصف الذي يليه: انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بالسجود، فسجدوا ثم سلَّم صلى الله عليه وسلم وسَلَّمْنا جميعا، قال جابر: كما يصنع حَرَسُكُمْ هؤلاء بأُمرائهم».
وذكر البخاري طرفا منه: «وأنه صلى صلاة الخوف مع النبي صلى الله عليه وسلم في الغزوة السابعة، غزوة ذات الرِّقَاعِ».

حدیث کی وضاحت: خوف كى نماز کا طریقہ جیسا كہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت…

اس حدیث میں خوف کی نماز کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ذکر کیا گیا ہے۔ خوف کی نماز کے اس طریقے میں دشمن قبلے کی جانب ہے، آپ ﷺ نے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ پہلی صف میں اور دوسرا دوسری صف میں ہے، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ تکبیر ، ایک ساتھ قرأت ، ایک ساتھ رکوع اور ایک ساتھ رکوع سے اٹھتے ہیں، پھر سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ساتھ والی صف بھی سجدہ کرتی، پھر جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو پچھلی صف جو کہ دشمن کے سامنے پہرا دے رہی تھی سجدہ کرتی، جب کھڑے ہوئے تو برابری کی رعایت کرتے ہوئے پچھلی صف آگے اور اگلی صف پیچھے ہوجاتی کہ پوری نماز میں پہلی صف اپنی جگہ پر نہیں رہتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جیسا پہلی صف میں کیا، پھر تمام کو تشہّد کروائی اور سب کے لیے سلام پھیرا۔

اس حدیث میں نمازِ خوف کی یہ کیفیت تفصیل سے ذکر ہوئی، یہ اس واقع حال کے مناسبت سے تھی جو آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درپیش تھی کہ دشمن قبلے کی جانب ہے، وہ دشمن کو قیام اور رکوع کی حالت میں دیکھ رہے ہیں اور پچھلی جانب سے دشمن کے حملے سے محفوظ ہیں۔

موضوعات : نمازِ خوف

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
حسبنا الله ونعم الوكيل اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود