اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کئے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسی کا ہے جس کے …
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: «قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعُمْرَى لمن وهبت له».
وفي لفظ: «من أُعمِر عمرى له ولعقبه؛ فإنها للذي أعطيها، لا ترجع إلى الذي أعطاها؛ لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث».
وقال جابر: «إنما العمرى التي أجازها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أن يقول: "هي لك ولعقبك"، فأما إذا قال: "هي لك ما عشت"؛ فإنها ترجع إلى صاحبها».
وفي لفظ لمسلم: «أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها، فإنه من أُعمِر عمرى فهي للذي أُعمِرها حيًّا وميتًا ولعقبه».
”عُمرى“ اور اسی کی طرح ”رُقبى“ ہبہ کی دو قسمیں ہیں، زمانۂ جاہلیت میں لوگ اس طرح كا ہبہ کیا کرتے تھے، ایک شخص دوسرے کو گھر وغیرہ ان الفاظ میں دیتا جیسے ”میں نے وہ گھر تجھے عمر بھر کے لیے ہبہ کیا“ یا ”میں نے تمہاری عمر بھر یا اپنی عمر بھر میں وہ گھر آپ کو دے دیا“۔
لوگ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے۔) کے مرنے کا انتظار کرتے، تاکہ وہ اپنا ہبہ واپس کردے۔
شریعت نے ہبہ کو برقرار رکھا اور اس کی مروّجہ شرط یعنی لوٹانے کو باطل قرار دیا۔ اس لیے کہ ہبہ کو واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے واپس نگلتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے عمر بھر کے ہبہ کا فیصلہ موہوب لہ اور اس کے بعد اس کے پسماندگان کے لیے کیا۔
آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنے اموال کی حفاظت کرنے کی تنبیہ فرمائی تاکہ لوگ اپنے گمان میں اس شرط کو لازم قرار نہ دیں اور اس چیز کو واپس لینے کو جائز جانیں۔ چنانچہ فرمایا ”اپنے مال اپنے قبضے میں رکھو اسے ضائع نہ کرو، جس نے عمر بھر کے لیے مکان دے دیا وہ زندگی میں اسی کا رہے گا جسے وہ دیا گیا ہو اور مرنے کے بعد اس کی اولاد کا ہوجائے گا“۔
موضوعات : ہبہ اور عطیہ