اگر تو نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو وہ جو شکار روک کر رکھے، اسے کھاؤ۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اگر تو نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو وہ جو شکار روک کر رکھے، اسے کھاؤ۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اگر تو نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو…

عن عديّ بن حاتم رضي الله عنه قال: قلتُ: يا رسول الله، إني أُرسلُ الكلاب المعلَّمة، فيُمسِكنَ عليّ، وأذكرُ اسم الله؟ فقال: "إذا أرسلتَ كلبَكَ المعلَّمَ، وذكرتَ اسمَ الله، فكُلْ ما أمسكَ عليك"، قلت: وإن قتلنَ؟ قال: "وإن قَتلْنَ، ما لم يَشْرَكْها كلبٌ ليس منها"، قلتُ له: فإني أرمي بالمِعْراض الصيدَ فأُصُيبُ؟ فقال: "إذا رميتَ بالمعراضِ فخزَقَ فكلْهُ، وإن أصابَه بعَرْضٍ فلا تأكلْهُ".
وحديث الشعبي، عن عدي نحوه، وفيه: "إلا أن يأكل الكلب، فإن أكل فلا تأكل؛ فإني أخاف أن يكون إنما أمسك على نفسه، وإن خالطها كلاب من غيرها فلا تأكل؛ فإنما سميت على كلبك، ولم تسم على غيره".
وفيه: "إذا أرسلت كلبك المكلب فاذكر اسم الله، فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه، وإن أدركته قد قتل ولم يأكل منه فكله، فإنَّ أخْذَ الكلبِ ذَكَاته".
وفيه أيضا: "إذا رميت بسهمك فاذكر اسم الله".
وفيه: "فإن غاب عنك يوما أو يومين -وفي رواية: اليومين والثلاثة- فلم تجد فيه إلا أثر سهمك، فكل إن شئت، فإن وجدته غريقا في الماء فلا تأكل؛ فإنك لا تدري الماء قتله، أو سهمك؟

حدیث کی وضاحت: اگر تو نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو…

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سدھائے ہوئےکتوں کے شکار کے بارے میں پوچھا، جن کو مالک نے شکار کے لیے سدھا رکھا ہو، تو آپﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کو چھوڑتے وقت 'بسم اللہ' پڑھی تھی اور ان کے ساتھ (شکار کے عمل میں) کوئی دوسرا کتا شریک نہیں ہوا، تو ان کے پکڑے ہوئے شکار کو کھا لو۔ اگر ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک ہو گیا، تو نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر 'بسم اللہ' پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں۔ اسی طرح اگر تیر چلاؤ اور اس کا پھل شکار کے جسم میں داخل ہو جائے اور خون بہنے لگے، تو اس کو بھی کھا لو؛ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کو 'بسم اللہ' پڑھ کر چھوڑا گیا ہو۔ البتہ اگر تیر چوڑائی میں لگے اور شکار مر جائے، تو مت کھاؤ، کیوں کہ وہ چوٹ لگنے سے مرنے کی وجہ سے 'متردیہ' (اوپر سے گر کر مرنے والا جانور) اور نطیحہ (سینگ لگ کر مرنے والا جانور) کے حکم میں ہوگا۔ جب کسی نے شکار کے پیچھے کتا دوڑایا اور شکار کو زندہ پایا، اسے کتے نے جان سے نہیں مارا تھا، تو ذبح کرنا ضروری ہوگا اور شکار حلال ہوگا، گرچہ اسے پکڑنے میں دوسرا کتا بھی شریک رہا ہو۔ انھوں نے 'بسم اللہ' کہہ کر تیر سے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے اس کے شکار کو کھانے کا حکم دیا۔ اگر شکار ایک یا دو دن غائب رہنے کے بعد ملے اور اس کے جسم پر اس کے تیر کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہ ہو، تو اس کا کھانا جائز ہوگا۔ اگر اسے پانی میں ڈوبا ہوا پائے، تو نہ کھائے، کیوں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ پانی میں ڈوبنے سے مرا ہے یا تیر لگنے سے۔

موضوعات : شکار

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا إله إلا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود