اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي واقد الليثي رضي الله عنه قال: قَدِم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وهم يَجُبُّون أَسْنِمة الإبل، ويَقْطعون أَلْيَات الغنم، فقال: «ما قُطِع من البَهِيمَة وهي حيَّة فهي ميْتَة».
اس حدیث میں یہ فوائد بیان کیے گئے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے اوراہل مدینہ کے نزدیک یہ طریقہ رائج تھا کہ وہ (زندہ) اونٹ کی کوہان اور (زندہ) بکریوں کا چوتڑ کاٹ کر کھاتے اور ان سے استفادہ کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے انھیں اس عمل سے روک دیا اور اس مسئلے کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے ایک قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ زندہ چوپایوں کا جو حصہ کاٹ لیا جائے، جیسے اونٹ کی کوہان یا بکری کا چوتڑ وغیرہ، چاہے آدمی خود کاٹے یا کٹا ہوا حاصل کرے، اس کا حکم اس جانور کے مردار کا حکم ہے؛ اگر اس جانور کا مردار طاہر ہے، تو طاہر ہوگا اور اگر اس جانور کا مردار نجس ہے، تو نجس ہوگا۔ چنانچہ آدمی کا ہاتھ طاہر ہوگا، جب کہ مینڈھے کا چوتڑ نجس ہوگا۔ اسی سے اور بھی مسائل کا استخراج ہو سکتا ہے۔ البتہ ماکول اللحم جانوروں کے بال، ان کی اون، ان کے پر، ان کا رواں، ان کا مشک اور مشک دان، یہ ساری چیزیں طاہر و پاک ہیں۔
موضوعات : کون سے جانور اور پرندے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔