میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

حدیث کے راوی: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر…

عن عبد خير، عن علي رضي الله عنه ، قال: لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخُفِّ أولى بالمسح من أعلاه، وقد «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظَاهر خُفَيْهِ».

حدیث کی وضاحت: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر…

علی رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ اگر دین وحی کو چھوڑ کر عقل اور رائے سے لیا جاتا تو موزوں کے نیچے والے حصے پر مسح کرنا اوپری حصہ سے اَوْلیٰ ہوتا کیونکہ موزے کے نیچے کا حصہ زمین اور گندگیوں سے ملا ہوا رہتا ہے چنانچہ عقلی طور پر یہ مسح کا زیادہ حقدار ہے، لیکن شریعت نے اس کے خلاف حکم دیا ہے، لہذا شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے اور وہ رائے اور نظریہ جو نصوصِ شرعیہ کے مخالف ہو اسے ترک کرنا ضروی ہے اور یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (اگر دیکھا جائے تو) رسول اللہ ﷺ نے جو کیا وہ دوسرے ناحیہ سے عقل کے عین موافق ہے کیونکہ جب موزوں کے نچلے حصہ کو پانی سے مسح کیا جائے تو وہ نجاست کے لگ جانے کا سبب بنتا ہے چنانچہ اوپری حصہ پر مسح کرنے کا حکم دیا تاکہ اوپری حصہ میں جو گرد وغبار ہے زائل ہو جائے، اور چونکہ موزے کے اوپر والا حصہ ہی نظر آتا ہے اسی بنا پر موزے کے اوپر والے حصہ پر مسح کرنا اولی ہے اور شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں وہ عقل سلیم کے مخالف نہیں ہوتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ عقل والوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔

موضوعات : موزوں وغیرہ پر مسح

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 17.1 / 29.5
روشنی 94%
نیا چاند 12 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود