اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتےتھے کہ” جس کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا اس پر کوئ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس رضي الله عنهما أنه كان يقول: «إذا حَرَّمَ امرأته ليس بشيء» وقال: {لقد كان لكم في رسول الله أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21]
حدیث کا معنی ہے کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے یا ممنوع ہے یا اس جیسے الفاظ کہے تو یہ حرمت کے الفاظ طلاق کے حکم میں نہیں ہوں گے بلکہ یہ قسم ہو گا جس میں کفارہ دینا ہو گا جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ، قَدْ فَرَضَ اللَّـهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ ”اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تحقیق کہ اللہ تعالی نے تمہارے لیے قسموں کو کھول دینا مقرر کیا ہے“۔ (التحریمھ 1-2) یعنی تمہارے لیے تمہارے قسموں سے پاک ہونے کا طریقہ فدیہ کی شکل میں ادا کرنا بتایا ہے جیسا کہ سورہ مائدہ میں مذکور ہے۔
موضوعات : قرآن کی تفسیر · ظہار