اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جندب بن عبد الله رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اقرؤوا القرآنَ ما ائْتَلَفت قلوبُكم، فإذا اختلفْتُم فقوموا عنه».
حدیث کا مفہوم: تب تک قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل اس میں لگا رہے، اور جب اس کے معانی سمجھنے میں تمہارے مابین اختلاف پیدا ہونے لگے تو اس کے پاس سے اٹھ جاؤ تا کہ یہ اختلاف تمہیں شر میں مبتلا نہ کر دے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس کو تھام لو اور جب کوئی متشابہ آیت سامنے آ جائے جو اختلاف کا باعث ہوتی ہے تو اس میں مشغول ہونے سے احتراز کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ حکم ہو کہ جب تک دل متوجہ رہیں تب تک پڑھتے رہو اور جب دل اكتاہٹ کا شکار ہونے لگیں تو قرآن کی تلاوت چھوڑ دی جائے تا وقتیکہ نشاط اور توجہ دوبارہ لوٹ آئے جیسا کہ نماز کے بارے میں یہی حکم آیا ہے۔
پہلا احتمال زیادہ راجح ہے۔