قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

حدیث کے راوی: اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑن…

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تُجادِلوا في القرآن؛ فإنَّ جِدالًا فيه كُفرٌ».

حدیث کی وضاحت: قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑن…

نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم کے معاملے میں جھگڑنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی شخص نے کسی آیت کی تلاوت یا کلمے کو سنا جو اس کے پاس نہیں یا اس کا اسے علم نہیں تو جلدبازی کرتے ہوئے پڑھنے والے کو خطا کار گردان دے اور جو اس نے پڑھا ہے اسے غیرِقرآن سے منسوب کر دے، یا پھر وہ کسی آیت کے معنی میں جھگڑتا ہے جس کا اسے علم نہیں تو اسے گمراہ قرار دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ جھگڑا اس کے سامنے حق کے ظاہر ہونے کے باوجود اس کو حق سے پھیر دیتا ہے۔ اسی لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کا نام کفر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ صاحبِ جدال کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس سے اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے یا یہ مباح اور محمود اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب سوال کرنے والا حصولِ علم یا اظہارِ حق کے لیے سوال کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”ان سے اچھے انداز میں بحث ومباحثہ کیجیے“۔

موضوعات : قرآن کے بارے میں شہبات کا رد · مناظرہ کے آداب

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود