اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > (بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدی…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لأَنْ يَلَجَّ أحدُكم في يَمِينِه في أهْلِه آثَمُ له عند الله تعالى من أن يُعْطِي كَفَّارَتَهُ التي فرض الله عليه».
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ سے متعلق قسم اٹھا لے، حالانکہ اس کے پورا کرنے میں ان کا نقصان ہو اور اس سے رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا باعث بھی نہ ہو، پھر وہ اس قسم کو پورا کرنے پر اصرار کرے۔ وہ زیادہ گناہ گار ہوتا ہے اور اس کا جرم اس سے رجوع کر لینے اور کفارہ دینے سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے حق میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے فرض کردہ کفارہ ادا کرے اور قسم پورا کرنے پر اصرار نہ کرے۔ بشرطیکہ قسم سے رجوع کرنے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم نہ آتی ہو۔ بلکہ اس کا قسم پورا کرنے پر اصرار کرنا بڑا گناہ ہے، کیونکہ اس میں اس کے گھر والوں کا نقصان ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے معاملات میں گنجائش رکھی ہے۔ صحیحین میں یہ روایت ہے: ”اگر تم کسی بات پر قسم کھا لو اور پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو وہ کرو جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو“۔
موضوعات : قسمیں