اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > ’’ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا…
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رضي الله عنهما يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ، أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے۔ یہاں تک کہ عاجزی بھی۔ یعنی جو کام کرنا واجب ہے، اسے ترک کرنا، اس میں ٹال مٹول کرنا اور اسے اس کے وقت سے مؤخر کرنا بھی۔ کام خواہ دنیوی ہو یا اخروی۔ اور یہاں تک کہ چاق و چوبند ہونا بھی، جس کے معنی ہیں، دنیوی اور اخروی امور میں نشاط اور مہارت۔ اللہ عز و جل نے عاجزی، قدرت و نشاط اور ہر ایک چیز کو مقدر فرما رکھا ہے۔ کوئی بھی چیز اللہ کے علم اور مشیت کے بغیر واقع نہیں ہوتی۔
موضوعات : قضا و قدر پر ایمان · قضاء و قدر کے مراتب