کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں مالک ب…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں مالک ب…

حدیث کے راوی: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں…

عن أبي جعفر عبد الله بن جعفر رضي الله عنهما ، قال: أرْدَفَنِي رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم خلفه، وأَسَرَّ إليَّ حديثا لا أُحَدِّث به أحدًا من الناس، وكان أَحَبَّ ما اسْتَتَرَ به رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته هَدَفٌ أو حائشُ نَخْل. يعني: حائط نخل.
فدخل حائطا لرجل من الأنصار، فإذا فيه جَمَل، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم جَرْجَر وذَرَفَتْ عيناه، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم فمسَح سَرَاته -أي: سنامه- وذِفْرَاه فسَكَن، فقال: «مَن رَبُّ هذا الجمل؟ لمن هذا الجمل؟». فجاء فَتًى من الأنصار، فقال: هذا لي يا رسول الله. قال: «أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي مَلَّكَك الله إياها؟ فإنه يَشْكُو إلي أنك تُجِيعه وتُدْئِبه».

حدیث کی وضاحت: کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں…

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں ایک رات اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور چپکے سے انھیں ایک بات کہی، جس کا یہ صحابی رسول ﷺ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا نہیں چاہتے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے انھیں وہ بات رازداری سے بتائی تھی۔ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی عادت شریفہ کا بھی ذکر کیا کہ جب آپ ﷺ قضاے حاجت کا ارادہ فرماتے، تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ یا تو کسی اونچی و بلند چیز کی آڑ میں یا کسی ایسے باغ میں چھپ جائیں، جہاں کھجور کے گھنے درخت ہوں؛ تاکہ آپ پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اور یہ باغ ایسی جگہ ہے، جہاں اونچی اونچی فصلیں ہوتی ہیں؛ لیکن لوگوں کے بیٹھنے کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ ایک انصاری شخص کے باغ میں تشریف لے گئے، تو وہاں ایک اونٹ کو دیکھا، جب رسول اللہ ﷺ پر اونٹ کی نظر پڑی تو وہ رونے لگا۔ آپ نے اس کی کوہان اور کانوں کے پیچھے سہلایا۔ اس کے بعد اونٹ کے مالک کے تعلق سے دریافت فرمایا۔ ایک انصاری نوجوان نے آکر بتایا کہ وہ اس کا مالک ہے۔ تب آپ ﷺ نے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمھیں اس اللہ عز وجل کا کوئی ڈر و خوف نہیں، جس نے تمھیں اس اونٹ کا مالک بنایا ہے؟ کیوں کہ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکے رکھنے کے ساتھ ساتھ تھکا دینے کی حد تک کام لیتے ہو۔

موضوعات : قضائے حاجت کے آداب · اسلام میں جانوروں کے حقوق

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود