اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی اکرم ﷺ رات میں نماز (تہجد) کے …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عَبدُ اللَّهِ بنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قال: «بِتُّ عِندَ خَالَتِي مَيمُونَة، فَقَام النَبيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِن اللَّيل، فَقُمتُ عَن يَسَارِه، فَأَخَذ بِرَأسِي فَأَقَامَنِي عن يَمِينِه».
جلیلُ المرتبت صحابی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات اپنی خالہ کے پاس گزاری جو نبی ﷺ کی زوجہ تھیں تاکہ وہ بذات خود آپ ﷺ کو تہجد پڑھتا ہوا دیکھ سکیں۔جب نبی ﷺ رات کو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ وہ آپ ﷺ کی اقتدا میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑے ہوئے اور چونکہ دائیں طرف زیادہ اشرف ہے اور جب مقتدی اکیلا ہو تو وہ امام کے دائیں جانب ہی کھڑا ہوتا ہے اس لیے آپ ﷺ نے انہیں ان کے سر سے پکڑ کر اپنے پیچھے سے گھماتے ہوئے اپنی داہنی جانب کھڑا کر دیا۔
موضوعات : قیام اللیل